کراچی کے علاقے گلشن حدید میں فرسٹ ایئر کی طالبہ سے اغواء کے بعد مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز لے لیے گئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد زیادتی سے متعلق تفصیلات واضح ہوں گی،جبکہ گرفتار تینوں ملزمان کا کرائم ڈیٹا ریکارڈ بھی چیک کیا جارہا ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں اسٹیل ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں ملزمان کے خلاف زیادتی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گلشن حدید سے فرسٹ ایئر کی طالبہ کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، متاثرہ لڑکی کے والد نے ایف آئی آر میں کہا کہ بیٹی 9 فروری کو کالج کے لیے گھر سے گئی تھی جب دوپہر 1 بجے تک وہ گھر نہ لوٹی تو گھر والوں نے مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں نے اپنے طور پر بیٹی کو بہت ڈھونڈا مگر وہ نہیں ملی، اگلے دن ہم نے پولیس کو اطلاع کی۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ بیٹی کہتی ہے اُسے 2 سے 3 لڑکے اغوا کرکے لے گئے تھے اور اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *