سندھ  اسمبلی کے 168 ارکان 3 مارچ کو سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

سینیٹ الیکشن میں سندھ سے  پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف،  ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ٹی ایل پی کے امیدوار حصہ لیں گے۔

سندھ اسمبلی میں 3 مارچ کو سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں سمیت خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔

سندھ اسمبلی کی 168 نشستوں میں سے جنرل نشست پر کامیابی کیلئے امیدوار کو 22 ووٹ درکار ہوں گے جبکہ تناسب کے اعتبار سے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشست کے لیے 56، 56 ووٹس درکار ہوں گے۔

سندھ اسمبلی سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 99 ہے۔

ایوان میں تعداد کے لحاظ سے پاکستان تحریک انصاف 30 ارکان کے ساتھ دوسرے اور ایم کیو ایم پاکستان 21 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ سندھ اسمبلی میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 14، تحریک لبیک پاکستان کے تین اور متحدہ مجلس عمل کا ایک رکن ہیں۔

سندھ سے منتخب 11 سینیٹرز اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان نشستوں کے انتخاب کے لیے سندھ اسمبلی ہال کو پولنگ اسٹیشن بنایا جائے گا جہاں ارکان سندھ اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *