پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے بلوچستان حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کو حکومت کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔

کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کوئٹہ میں جلسے کی اجازت دینے کے بعد حکومت بلوچستان نے یوٹرن لے لیا، عین وقت پر جلسےکی این او سی منسوخ کرنا صوبائی حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم امن پسند لوگ ہیں،کوئی بھی کام غیر آئینی نہیں کریں گے، میں انتظامیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ جلسے کی اجازت بحال کی جائے۔

چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ جمہوری طریقوں سے مسند اقتدار پر بیٹھنے والوں کو ریاستی طاقت کے بے جا استعمال سے جمہوری عمل کو روکنا زیب نہیں دیتا ہے، پی ایس پی نامساعد حالات میں پاکستان کی خدمت کررہی ہے جس کا پیغام ایک عام آدمی کا پیغام ہے۔

مصطفی کمال نے مزید کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو فون کیا اوران کےلیے میسیج چھوڑا ہے مگر جواب نہیں ملا، یہ اخلاقی طور پر بھی اچھانہیں کہ کسی کے فون کا جواب نہ دیاجائے، میں جاننا چاہ رہا ہوں کہ ہمارے جلسے کی اجازت کیوں منسوخ کی گئی۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *