اہل خانہ کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں طبیعت ناسازی پر ریحان اعظمی کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ کچھ روز زیر علاج رہنے کے بعد گھر واپس آگئے تھے۔

کراچی میں 7 جولائی 1958 میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر ریحان اعظمی نے 1974 میں شاعری کا آغاز کیا۔ انہوں نے بطور نغمہ نگار 4000 سے زائد نغمات سپرد قلم کیے۔ ان کے مشہور گانوں میں ہوا اے ہوا، ’خوشبو بن کر مہک رہا ہے سارا پاکستان وغیرہ شامل ہیں، تاہم یہ سلسلہ زیادہ نہ چل سکا اور ڈاکٹر ریحان اعظمی حمد و سلام، منقبت، مرثیہ اور نوحہ کی جانب مرکوز ہوگئے اور اپنی شاعری میں انہوں نے مذہب کو اہمیت دی۔

جدید اردو ادب کی تاریخ کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ریحان اعظمی کے ذکرکے بغیر نامکمل ہے۔ وہ ایک استاد، صحافی اور قلمکار تھے، لیکن ان کی بنیادی پہنچان اور ان کا طرہ امتیاز شاعری خاص کر نوحہ اور مرثیے رہے۔ وہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد المعروف لالوکھیت کی گلیوں میں جوان ہوئے جہاں اس زمانے میں اہلِ علم کی کثیر تعداد آباد تھی۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول لیاقت آباد سے حاصل کی، جب کہ ثانوی تعلیم کیلئے سراج الدولہ کالج کے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اوروہاں سے اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعہ کراچی کا رخ کیا۔

پاکستان کے رثائی ادب میں ان کی بڑی خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے رثائی ادب میں 25 سے زائد کتابیں بھی تحریر کیں۔ ڈاکٹر ریحان کے بارے میں عام تاثر یہ بھی ہے کہ انہوں نے سب سے زیادہ نوحے تحریر کیے ہیں۔ ملت جعفریہ کی جانب سے ڈاکٹر ریحان اعظمی کے انتقال پر نہایت دکھ اور ملال کا اظہار کیا گیا ہے۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *