کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کی ٹیم دوسری اننگز میں 245 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور یوں پاکستان کو جیت کے لیے صرف 88 رنز کا ہدف دیا ہے۔ 

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 220 رنز بنائے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم فواد عالم کی سنچری کی بدولت 378 رنز بنانے میں کامیاب رہی اور یوں میزبان ٹیم کو 158 رنز کی برتری حاصل کی جس کے جواب میں مہمان ٹیم 9 وکٹ کے نقصان پر 240 رنز بنالیے ہیں۔

دوسری اننگز میں مہمان ٹیم کی جانب سے ڈین ایلگر 29 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ وین ڈیر ڈاسن اور اور ایڈن مارکرم نے 127 رنز کی اہم شراکت قائم کی اس دوران دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کی تاہم یاسر شاہ نے اس شراکت کا خاتمہ کرتے ہوئے ڈاسن کو 64 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔

تیسرے روز کے اختتام میں صرف 4 اوورز باقی تھے لیکن فاف ڈپلسی نے اپنی وکٹ گنوادیں وہ 10 رنز پر یاسر شاہ کا شکار بنے جب کہ اگلے ہی اوور میں سیٹ بلے باز ماکرم 74 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد نعمان علی کا شکار بن گئے۔ قومی ٹیم کی جانب سے یاسر شاہ نے 4 ، نعمان علی اور حسن علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

چوتھے روز مہمان ٹیم نے 4 وکٹ کے نقصان پر 187 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا۔ کیشو مہاراج کو 2 رنز پر حسن علی نے بولڈ کیا اور کپتان ڈی کوک کی اننگز کا خاتمہ یاسر شاہ نے کیا وہ بھی 2 رنز ہی بناسکے۔ اینرج نورجےکھاتہ کھولے بغیر ہی آؤٹ ہوئے۔ جارج لنڈے 11 رنز کے مہمان ثابت ہوئے جب کہ ٹمبا باوما کی مزاحمت 40 رنز پر دم توڑ گئی۔

قومی ٹیم کی جانب سے دوسری اننگز میں اسپنرز چھائے رہے۔ نعمان علی نے 5 اور یاسر شاہ نے 4 وکٹیں حاصل کیں جب کہ ایک وکٹ حسن علی کے حصے میں آئی۔

اس سے قبل پاکستان نے کھیل کے پہلے روز ہی 33 رنز پر 4 وکٹیں گنوادیں تھیں تاہم مڈل آرڈر بلے باز فواد عالم کی شاندار سنچری کی بدولت جنوبی افریقا پر پہلی اننگز میں برتری حاصل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ سابق کپتان اظہر علی اور فہیم اشرف نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچریاں اسکور کیں۔

اظہر علی 51 رنز پر وکٹ گنوا بیٹھے اور محمد رضوان 33 رنز بنانے میں کامیاب رہے جب کہ فہیم اشرف 64 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، یاسر شاہ 38 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ جنوبی افریقا کی جانب سے کگیسو رباڈا اور کیشو مہاراج نے 3،3 جب کہ لنکی نگیڈی اور اینرچ نورجے نے 2،2، وکٹیں حاصل کیں۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *