کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں دھاگا بنانے کی فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ دھاگا بنانے والی فیکٹری کی تیسری منزل پر لگی جس نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چیف فائر آفیسر مبین احمد کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں لگی آگ پر  سنارکل اور فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیوں کی مدد سے قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں کوئی ایمرجنسی راستہ نہیں ہے، فیکٹری کی کھڑکیوں کو لوہے کی سلاخیں لگا کر بند کیا گیا ہے۔

چیف فائر آفیسر مبین احمد کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں پھنسے افراد کی تلاش کا کام مکمل ہوچکا ہے، آگ سے متاثرہ عمارت کی تیسری منزل سے 3 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جن کی شناخت علی شیر، محمد کاظم اور فیاض کے ناموں سے ہوئی ہے۔

ریسکیو ذرائع کا بتانا ہے کہ فیکٹری میں آگ بجھاتے ہوئے ایک فائر فائٹر سر پر چوٹ لگنے سے معمولی زخمی بھی ہوا، زخمی فائر فائٹر کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا: فیکٹری مالک

دوسری جانب دھاگا فیکٹری کے مالک عمران کا تھا کہ فیکٹری میں آگ بجھانے کے تمام آلات موجود ہیں، فیکٹری میں ایمرجنسی ایگزٹ بھی موجود ہے، فیکٹری کی کھڑکیوں کو سیکیورٹی کے تحت بند کیا گیا تھا۔

فیکٹری مالک نے الزام عائد کیا کہ فائر بریگیڈ آگ بجھانے کے لیے دیر سے پہنچی جس کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا۔

لوگوں کو بچاتے ہوئے میرا بیٹا شہید ہو گیا تو مجھے فخر ہو گا: والد علی شیر

فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے علی شیر کے بھائی کا کہنا تھا کہ علی شیر آج یہاں ڈبل ڈیوٹی کررہا تھا، کچھ دیر پہلے ہم علی شیر کو کھانا دے کر آئے تھے، آگ لگنے کے بعد بھائی نے رابطہ کیا تھا، بھائی نے بتایا کہ عمارت میں بہت دھواں ہے، بھائی نے بتایا کہ ہم 4 لوگ عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن پھر بھائی سے رابطہ بند ہو گیا۔

علی شیر کے والد کا  کہنا تھا کہ آگ لگنے کے بعد میرا بیٹا فیکٹری سے باہر آگیا تھا، میرا بیٹا لوگوں کو نکالنے کے لیے دوبارہ فیکٹری کے اندر گیا، لوگوں کو بچاتے ہوئے میرا بیٹا شہید ہو گیا تو مجھے فخر ہو گا۔

والد علی شیر کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں ایمرجنسی میں نکلنے کے کوئی انتظامات نہیں ہیں، فیکٹری میں کھڑکیوں تک کو بند کیا گیا ہے۔

جو بھی ذمہ دار ہوا اس کے خلاف کارروائی ہو گی: صوبائی وزیر انور سیال

صوبائی وزیر سہیل انور سیال متاثرہ فیکٹری پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھاگا فیکٹری میں آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

صوبائی وزیر سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ اور فیکڑی مالک دونوں کے خلاف انکوائری ہو گی، فائر بریگیڈ کی جانب سے کوئی کوتاہی تو ان کے خلاف کارروائی ہو گی اور فیکٹری میں ایمرجنسی راستہ نہ ہوا تو فیکٹری مالک کے خلاف کارروائی ہو گی۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *