سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ قراردے گی کہ آئین کا آرٹیکل 226 سینیٹ الیکشن پرلاگوہوتا ہے یا نہیں ؟ آرٹیکل 226 کے تحت تمام الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوتے ہیں یا نہیں؟ اگرآئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہوگی تو بات ختم۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمان کا متبادل نہیں، پارلیمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، ریاست کے ہر ادارے کو اپنا کام حدود میں رہ کرکرنا ہے،  ووٹنگ کےلیے کیا طریقہ کاراپنانا ہے ؟ کتنی سیکریسی ہونی چاہیے؟ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *