اسلام آباد: حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔

وفاقی وزراء شبلی فراز اور فواد چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے  کہا کہ الیکشن کمیشن ناکام ہو چکا ہے اور نیوٹرل امپائر کا کردار ادا نہیں کررہا اس لیے اسے بحیثیت مجموعی استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد الیکشن کمیشن سے اٹھ چکا ہے، نیا الیکشن کمیشن بنے جس پر سب کا اعتماد ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین فوری استعفیٰ دیں اور پارلیمان کو موقع دیا جائے کہ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے جس پر سب کا اعتماد ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات ڈھائی سال بعد ہوں گے جب کہ ضمنی الیکشن ہوتے رہتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن پر اعتماد ہونا چاہیے۔

شفقت محمود نے کہا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے اسے بھی الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں رہا، اگر دوسری جماعتوں سے پوچھیں تو وہ بھی الیکشن کمیشن کی شکایت کرتی نظرآتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا الیکشن کمیشن کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کریں گے۔

شفقت محمود نے کہا کہ وزیراعظم کا بہت دیر سے مطالبہ تھا الیکشن میں پیسے کی طاقت ختم ہو، وزیراعظم سینیٹ الیکشن کی شفافیت کے لیے چاہتے تھے کہ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو۔

وزیرتعلیم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا ووٹ کی خرید وفروخت سے سینیٹ الیکشن کو پاک کرنا ہے، 2018 میں سینیٹ انتخابات میں پھر منڈیاں لگیں، سپریم کورٹ نے کہا ووٹنگ کا طریقہ بدلنے کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *