بھارت نے دریائے ستلج میں زہریلا آلودہ پانی چھوڑ دیا جس سے بہاولنگر میں سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر ہزاروں مچھلیاں آلودہ پانی سے ہلاک ہوگئیں۔

بہاولنگر میں دریائے ستلج کے مقام سلیمانکی ہیڈ ورکس میں بھارت کی جانب سے آنے والا پانی مبینہ طور پر زہریلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس سے آبی حیات کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔

زہریلے کیمیکل ملے پانی سے مردہ مچھلیاں بھاری مقدار میں دریا کےکنارے پرآگئی ہیں جب کہ مچھلی فروش اور دیگر لوگ کناروں پر پڑی مردہ مچھلیاں اٹھا کر لےجانے لگے جس سے مردہ مچھلیوں کے بازار میں فروخت ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 ڈسٹرکٹ آفیسر ماحولیات بابر خان کے مطابق ہرسال جنوری اور فروری کے دوران دریائے ستلج میں چھوڑے جانے والے پانی میں مبینہ طور پر زہریلا کیمیکل ملا ہوا ہوتا ہے۔

جواب ڇڏي وڃو

توهان جو برق‌ٽپال پتو شايع نہ ڪيو ويندو. گھربل شعبا مارڪ ڪيل آهن *